سفرپاکستان،   ۲۹   دسمبر۲۰۲۳ءعشاء    : شیخ اور مرید کے لئے خاص نصیحتیں !

قطب زماں عارف باللہ حضرت مولانا شاہ عبدالمتین صاحب مدظلہ کامسجد اختر سے    بیان  

مجلس محفوظ کیجئے

اصلاحی مجلس کی جھلکیاں

بمقام:مسجدِ اختر نزد سندھ بلوچ سوسائٹی گلستان جوہر کراچی

بیان:عارف باللہ شیخ المشائخ شیخ الحدیث حضرت مولانا شاہ عبدالمتین بن حسین صاحب دامت برکاتہم۔۔

03:11) خطبہ۔۔۔يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين۔

03:12) اللہ تعالیٰ ہم سب کو معاف فرما دے قُرب ِخاص عطا فرمادے ہمیں اپنا دیوانہ بنا دے۔۔۔

03:53) مومن کے قلب کا مزاج ہی ایسا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قُرب کے ساتھ چیپکا رہتا ہے۔۔۔

05:03) اللہ تعالیٰ کی رضا اور لطف کے سامنے یہ سلطنتیں کچھ بھی نہیں ہیں۔۔۔

05:47) اِستقامت کیا چیز ہے؟ہروقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کےساتھ جینا اور اس سے نہ ہٹنا ہمیشہ اس پر دوام ہو۔۔۔

07:31) اللہ والوں کی پہچان کیا ہے؟جب ان کو دیکھو تو اللہ یا دآجائے۔۔۔اللہ والوں کےساتھ رہنا بڑی ہی سعادت کی بات ہے۔۔۔

10:50) حضرت مولانا رومی رحمہ اللہ کا شعر ہے کہ اِتّّصَالے بے تَکیُّف بے قیاس ہست رَبُّ الناس را با جانِ ناس حق تعالیٰ کااپنے بندوں کے ساتھ ایک خاص قرب اور تعلق ہوتاہے ،قیاس اور عقل اُس قرب اور تعلق کی کیفیت کوسمجھنے سے عاجز اور قاصرہیں۔ میرے شیخ کا شعر ہے کہ ہے زباں خاموش اور آنکھوں سے ہے دریا رواں اﷲ اﷲ عشق کی یہ بے زبانی دیکھئے

14:57) بس اللہ کو کسی لمحے بھولیں نہ حضرت خواجہ صاحب رحمہ اللہ کا شعر ہیکہ ضربیں کسی کے نام کی دل پہ یونہی لگائے جا گو نہ ملے جواب کچھ در یونہی کھٹکھٹائے جا کھولیں وہ یا نہ کھولیں در اس پہ ہوکیوں تری نظر تو تو بس اپنا کام کر یعنی صدا لگائے جا

16:22) بس ذکر میں ناغہ مت کریں۔۔۔اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے کسی بھی دن ناغہ نہ کریں میرے شیخ فرماتے تھے کہ جس دن ذکر نہ کریں تو اس دن پھر کھانا بھی نہ کھائیں میرے شیخ کا یہ مشغلہ تھا کہ روزانہ اپنا معمول پور ے کرتے تھے کبھی ناغہ نہ کرتے تھےذکر غذاِ روح ہے ذکر کی برکت سے روح کو آرام اور قوت ملتی ہے۔۔۔

22:54) اُولیاء ُ اللہ ہروقت ذکرِ حق میں مست رہتے ہیں اس لیے ان کےساتھ رہنا چاہیے جو ذکر اللہ میں مست رہتے ہیں وہ زندہ ہیں اور جو اس سے غافل ہیں وہ مردہ ہے ۔۔۔یادِ الہی سے زندگی زندگی بنتی ہے۔۔۔دل والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشغول رہے ۔۔۔

26:27) اہل اللہ کے پاس جانےکے آداب ہیں ان کے پاس مٹ کر جانا چاہیے۔۔۔اللہ تعالیٰ ہمیں اہل اللہ عُشّاقِ حق کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمادےپرانے لوگوں میں یہ بات تھی کہ وہ اپنے آپ کو بالکل مٹا کر اہل اللہ کے پاس جاتے تھے جس کی وجہ سے ان کی بہت جلدی ترقی ہوتی تھی اور بہت جلد راستہ طے کرتے تھےحضرت امیر خسرو اپنے شیخ حضرت نظام الدین اولیاء کے عاشق تھے۔ ان کو اپنے پیر سے ایسی محبت تھی کہ فرماتے ہیں ؎ گفتم کہ روشن از قمر؟ میں نے اپنے مرشد سلطان نظام الدین سے ایک دن سوال کیا کہ دنیا میں چاند سے زیادہ روشن کیا چیز ہے؟ تو فرمایا ؎ گفتا کہ رخسار من است فرمایا کہ میرا چہرہ۔ تیری نظر میں میرا چہرہ چاند سے زیادہ روشن ہونا چاہیے کیونکہ تو میرا مرید ہے۔

30:17) شیخ ِکامل کون ہے جو متّبع سنت ہو متّبع شریعت ہو اور اس میں اِستقامت ہواور مشائخ دین کا ادب کرتا ہو۔۔۔

32:52) شیخ اور مُرید کہ لیے خاص نصیحت :شیخ نے جس کو خلافت دی ہو اس پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اصلاح بھی کرائےاور شیخ کو بھی چاہیے کہ ہر جگہ نرمی نہ کرے جہاں سختی ہو تو ضرورت کے موقع پر سختی بھی کرے اور اس کے پھر اچھے نتائج دیکھنے کو ملتے ہیں۔

37:26) ہمارے اکابرین بہت مٹے ہوئےتھے ان کو نہ اپنےعلم پر ناز تھااورنہ کسی اور چیز پر وہ ہرقدم پر فناء ہی فناء تھے اللہ تعالیٰ یہ دولت ہمیں بھی نصیب فرمائے۔

42:19) اللہ والوں کےساتھ تعلق کے بارے میں حضرت مولانا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہیں مپر الّا کہ باپر ہائے شیخ تابہ بینی کروفرِّ ہائے شیخ اللہ والوں کے پروں کے ساتھ اُڑو کیونکہ ان کے پر کرگسیت سے پاک ہوچکے ہیں لہٰذا وہ تمہیں دنیائے فانی و ناپاک پر نہیں گرنے دیں گے۔ تم ان کی برکات کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کروگے۔

48:04) اللہ والوں کی نظر کا کیا اثر ہے؟ ایک کتّا دلّی کی مسجد فتح پوری کے دروازہ پر بیٹھا ہوا تھا۔ شاہ ولی اللہ صاحب کے بیٹے تفسیر موضح القرآن کے مصنف شاہ عبدالقادر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کئی گھنٹے ذکر و عبادت و تلاوت کے بعد مسجد سے نکلے۔ قلب کا نور چھلک کر آنکھوں میں آرہا تھا۔ سِیْمَا ہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُودِ۔ سِیْمَا کیا چیز ہے؟ یَظْہَرُ عَلَی الْعَابِدِیْنَ یَبْدُوْا مِنْ بَاطِنِہِمْ اِلٰی ظَاہِرِہِمْ دل کا نور آنکھوں میں آگیا تھا۔ مسجد سے نکلے تو اس کتے پر نظر پڑگئی۔ حاجی امداد اللہ صاحب کا ارشاد حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ وہ کتا جہاں جاتا تھا دہلی کے سارے کتّے اس کے سامنے ادب سے بیٹھ جاتے تھے۔ گویا کتوں کا پیر بن گیا۔ اس مقام پر حکیم الامت رحمۃ اللہ نے آہ کی ہے۔ حسن العزیز میں ملفوظ ہے۔ فرمایا کہ ہائے! جن کی نگاہوں سے جانور بھی محروم نہیں رہتے تو انسان کیسے محروم رہیں گےمولانا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جو کتّا میرے محبوب کی گلی میں اقامت رکھتا ہےوہ قیامت کی قامت رکھتا ہے، کیونکہ؎ خاكِ پایش بہ ز شیرانِ عظیم اس کے پیر کی خاک میرے نزدیک بڑے بڑے شیروں سے افضل ہے ؎ آں سگے کو باشد اندر کوئے او من به شیراں کے دهم یک موئے او وہ کتا جو میرے محبوب کی گلی میں رہتا ہے میں شیروں کو اس کتے کا ایک بال بھی نہیں دے سکتا۔ تو کتے کو ایسی کیا نسبت ہے؟ بس یہ نسبت ہے کہ وہ اس کی لیلیٰ کی گلی کا رہنے والا ہے۔

52:58) مُرید کو شیخ کے پاس عزمت اور انتہائی ہی ادب کے ساتھ رہنا چاہیےحضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ حُب شیخ مفتاح ہے سعادت دارین کی،اپنےآپ کو شیخ کے پاس مٹانا چاہیے۔۔۔میرے شیخ اپنے شیخ پر کس قدر فدا تھے۔۔۔ کا گا سے ہنس کیو اور کرت نہ لاگی بار ہم کوّا تھے، گُو کھاتے تھے۔ اے میرے شیخ! آپ نے کاگا سے مجھے ہنس چڑیا بنادیا کہاب ذکر اللہ کے موتی چگتے ہیں اور تمام گندے کاموں سے اللہ نے نجات عطا فرمادی ؎ کاگا سے ہنس کیو اور کرت نہ لاگی بار بھیکا معالی پر واریاں دن میں سو سو بار بھیکا شاہ اپنے شیخ ابو المعالی پر سو سو بار قربان ہوجاکہ جس نے اپنے کرامت اور تربیت سے تجھ جیسے کو ہنس کردیا مگر دل بھی پیش کرو جب باغ پیش نہیں کروگے تو باغبانی کیسے ہوگی؟

58:39) اللہ کی محبت کا راستہ عجیب وغریب ہے۔۔۔اس لیے اپنے شیخ پر فدا ہونا سیکھو اور اپنے آپ کو بالکل مٹا دو یہ ایسا مٹا دوکہ پتا بھی نہ چلے۔۔۔حضرت میر صاحب رحمہ اللہ کا کیا ہی پیارا شعر ہے کہ ہائے وہ خشمگیں نگاہ قاتلِ کِبر و عجب و جاہ اس کے عوض دل تباہ میں تو کوئی خوشی نہ لوں یہ حضرت میر صاحب رحمہ اللہ کی دل کی آواز تھی۔

01:06:37) جو شیخِ کامل ہوتے ہیں ان کے دل میں یہ احساس رہتا ہیکہ میرے مُریدین کا کیا حال ہے پھر اس کے مطابق ان کی اصلاح کرتا ہے۔۔۔

01:09:00) ذکر الہی قُربِ الہی عشقِ الہی کی کسی بھی منزل پر رُکنا نہیں جو عارفین ہوتے ہیں ان کو ہمیشہ خوف ہی رہتاہے وہ ہمیشہ ڈرتے ہی رہتے ہیں حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو جہنم میں جانے کا خوف رہتا ہےاور اُولیا ء اللہ کو مردودیت کا خوف ہوتا ہے۔۔۔

01:12:22) اُولیاء اللہ کے مختلف حالات ہوتے ہیں مختلف شانیں ہوتیں ہیں۔۔۔ گفتگوئے عاشقاں درکار رب ز عالم من ترا تنہا گزینم رواداری کہ من تنہا نشینم حضرت امام ربّانی رحمہ اللہ کا واقعہ۔۔۔ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کا واقعہ کہ فرمایاکہ قدمی ھذا علی رقبت کل ولی اللہ

01:25:25) ایک نصیحت کہ شیخ کی نگاہ سے دیکھنا چاہیےاور ان کی نگاہ سے فیصلے کرنے چاہیے۔۔۔حضرت مولانا الیاس رحمہ اللہ کا ملفو ظ میں نے پڑھا ہیکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے فیصلے کیے ہیں۔۔۔حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اپنے شیخ کو تمام عالم کے اُولیا ء اللہ سے افضل سمجھو شیخ کے ساتھ جتنا حُسنِ ظن ہوتا ہے اسی کے بقدر ترقی ہوتی ہے حضرت تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کہو کہ میرے شیخ میرے لیے سب سے زیادہ انفع ہیں۔۔۔

01:33:11) ہمارے تمام اکابرین کی یہ شان تھی کہ وہ اپنے آپ کو مستقل بذات نہیں سمجھتے تھے اپنے اُوپر بڑوں کا سایہ رکھتے تھے،حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ کا مقام اور یہ فرمانا کہ میرے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مقلد ہوں۔

01:36:37) آیت يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وكونوا مع الصادقين کا ترجمہ اے ایمان والو !تم اللہ سے ڈرتے رہو۔۔۔یہ ترجمہ اس لیے کیا کہ یہ نہیں کہ ایک دن ڈرے پھر چھوڑ دیا پوری زندگی میں محبوب حقیقی کی پیاری پابندیاں ہیں۔۔۔ مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا۔۔۔اُس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا

01:41:49) نصیحت: شیخ کے ساتھ زیادہ رہنے کے بہت فوائد ہیں اگر شیخ نہ بھی ہو دُنیا میں اس کا فائدا نفع پھر بھی جاری رہتاہے۔۔۔

01:42:51) درد بھری دُعا۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries