حقیقی عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہے؟

۲۳ستمبر۱۹۹۱ء کا اہم بیان!

محفوظ کیجئے

وعظ :آدابِ عشقِ رسولﷺ پڑھیے

تفصیلات(کلک کریں)

 حضرت والا رحمۃ اللہ علیہ کا بہت ہی اہم بیان جس میں حضرت والا یہ واضح فرمایا ہے کہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بڑھ کر ہمیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں ہے، لیکن کسی بھی صحابی سے ربیع الاول نہیں منایا۔۔۔

آج مجھے اس مسئلہ کی تھوڑی سی وضاحت کرنی ہے تاکہ آپ کو احساس نہ ہو کہ ہم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عاشق نہیں ہیں اور کسی کو بدگمانی کا موقع نہ ملے کہ صاحب ان کی مسجد میں چراغاں نہیں ہوا لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے نہیں ہی

.لہٰذا میں آپ حضرات سے سوال کرتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کو عشق تھا یا نہیں؟ ہمارا آپ کا تو زبانی عشق ہے لیکن صحابہ نے تو جان قربان کر دی ، خون بہادیا، اُحد کے دامن میں ایک ہی دن میں ستر صحابہ شہید ہوگئے اور سرورِ عالم صلی تعالیٰ علیہ وسلم نے سب کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ کیا کامیاب زندگی تھی، ایک تو شہادت کا درجہ بلند پھر نمازِ جنازہ پڑھنے والا بھی کیسا! تمام نبیوں کا سردار.

لہٰذا میں یہ سوال کرتاہوں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب دنیا سے تشریف لے گئے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ڈھائی سال خلافت کی، کیا تاریخ میں کوئی اس کا ثبوت دے سکتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے ربیع الاوّل میں مسجد نبوی میں روغنِ زیتون سے چراغاں کیا ہو؟ یہاں تو آج کل بلب ہیں، اُس زمانہ میں تو بلب نہیں تھے لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ زیتون کے تیل سے بہت سے چراغ تو جلا سکتے تھے لیکن کوئی چراغاں نہیں ہوا۔ کیا ابو بکر صدیق جنہوں نے اپنی جان فدا کی، جن کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی ایک دن کی عبادت عمر کی ساری زندگی کی عبادت سے افضل ہے

اس امت کے صحابہ اور پچھلی تمام امتوں کے صحابہ کے ایمان سے زیادہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایمان ہے تو اس سب سے بڑے عاشقِ رسول نے ڈھائی سال حکومت کی اور ڈھائی سال کے اندر دو بار ربیع الاوّل آیا تھا مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی چراغاں نہیں کیا۔ اس زمانہ میں زیتون کا تیل تو تھا، دس بیس چراغ تو جلا ہی سکتے تھے اور سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے پاس کیا کمی تھی، بہت مالدار تھے اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف بہت بڑے تاجر تھے، بہت مالدار تھے، ان مالدار صحابہ نے بھی کوئی چراغ نہیں جلایا، وہ اپنے دل میں چراغ جلاتے تھے، صحابہ اپنے دلوں میں اتباع سنت کے نور سے چراغ جلاتے تھے۔

آج ڈاڑھیاں مونڈی جارہی ہیں، مونچھیں بڑی بڑی رکھی ہیں، طبلے سارنگیاں بج رہی ہیں، جماعت سے نمازیں چھوٹ رہی ہیں اور یہ سب سے بڑے عاشقِ رسول ہیں، یہ عشقِ رسول ہے

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نافرمانی کرتے ہو ظالمو! اور عشقِ رسول کا دعویٰ کرتے ہو، اگر تمہارا عشق سچا ہوتا تو تم رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے کیونکہ عاشق تو اپنے محبوب کا فرماں بردار ہوتا ہے۔ یہ کیسا عشق ہے کہ جماعت کی نمازیں چھوڑ رہے ہیں ، مسجدیں خالی ہیں اور جلوس میں سب آدمی گُھسے چلے جارہے ہیں، کیا صحابہ کے اندر یہ سمجھ نہیں تھی کہ وہ جلوس نکالتے؟ آج اخبارات میں ہے کہ خوشی مناؤ، ارے تمہاری خوشی جب قبول ہوگی جب صحابہ کے طریقے پر ہوگی، ان کے طریقہ کے خلاف تمہای خوشی قبول نہیں ہوسکتی، یہ دیکھو کہ حضراتِ صحابہ نے کیسے خوشی منائی اللہ ان سے راضی تو ان کے اعمال سے بھی راضی لہٰذا جیسے صحابہ کرام ایک ایک سنت پر جان دیتے تھے ہم بھی جان دینا سیکھیں..

.دیکھو! حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس گھر میں ناشتہ نہیں کیا جس گھر میں تصویر تھی اور آج عاشقِ رسول بنے ہوئے ہیں اور ان کا سارا گھر تصویروں سے بھرا ہوا ہے، گانے بجانے رات دن ہو رہے ہیں، ریڈیو ، ٹی وی، وی سی آر چل رہے ہیں، بس بارہ ربیع الاوّل میں چراغاں کرلیا اور جلوس نکال لیا تو بہت بڑے عاشق رسول ہوگئے۔ ارے تمہارا عشقِ رسول جب قبول ہوتا جب تم سنت کے مطابق مونچھیں کاٹ دیتے اور ڈاڑھیاں بڑھا لیتے اور پانچوں وقت کی جماعت سے نماز ادا کرتے....۔

ہمیں ثابت کر دو کہ سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ، ان حضرات نے ربیع الاوّل منایا، چراغاں کیابلکہ کسی صحابی سے ثابت کردو کہ انہوں نے ربیع الاوّل منایا ہو؟...

عاشقِ رسول وہ ہیں جو سنت پر چلتے ہیں، سبحان اللہ! ہمارا ربیع الاوّل تمام سال ہے، ہمارا میلاد شریف ہماری زندگی کی ہر سانس ہے، ہماری ہر سانس رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت میں ڈوبی ہوئی ہے، یہ تھوڑی کہ سال میں ایک مرتبہ جھوم جھوم کر پڑھ لیا اور سارے سال نافرمانی کرتے رہے۔ جو بھی اتباعِ سنت کرتا ہے اس کا سارا سال ربیع الاوّ ل ہے کیونکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دنیا میں تشریف لانے کا مقصد یہ تھا کہ بندے اللہ تعالیٰ کی مرضی پر چلیں اور خدا کے غضب اور قہر کے اعمال سے بچیں، یہ اصلی مولود شریف ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت کا حق وہ ادا کرتا ہے جو گناہ چھوڑ دے اور اللہ تعالیٰ پر اپنی جان فدا کردے..

.جو سانس اللہ تعالیٰ پر فدا ہو سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت پر فدا ہو یہ ہے اصلی مولود شریف۔ ایک ایک سنت کو سیکھئے اور اس پر عمل کیجیے، یہ ہے ربیع الاوّل، حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اسی لیے تشریف لائے تھے، سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس لیے تشریف نہیں لائے تھے کہ سال میں ایک دفعہ ہندؤں کی دیوالی کی طرح مسجدوں میں چراغاں کرلو، جلوس اور ریلیاں نکال کر گانے بجانے کرو اور گھروں میں وی سی آر، سینما، ٹی وی چلاؤ۔

آہ! گانا بجاناگھر سے نہ نکلااور دعویٰ ہے عشقِ رسول کا۔ سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں گانا بجانا مٹانے کے لیے پیدا کیاگیا ہوں اور آج سب کے گھر میں خوب گانے بجانے ہو رہے ہیں، ٹھیلے والے بھی گانے بجا رہے ہیں، سبزی بیچ رہا ہے اور گانے بجانے چل رہے ہیں۔ بتاؤ! اس امت کا کیا حال ہے؟

سب سے بڑا ربیع الاوّل یہ ہے کہ ہم گناہ چھوڑ دیں، سب سے بڑا ربیع الاوّل یہ ہے کہ ہم حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت کو عملی طور پر اختیار کریں اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر رات دن درود شریف پڑھیں، یہ ہے اصلی چیز۔..

آپ ہمارے بزرگوں کو دیکھیں جن کی ہر سانس سنت پر فداہورہی ہے۔ جیسا میں نے ابھی بتایا کہ حضرت مولانا محمد احمد صاحب کے خادم نے سنت کے خلاف حضرت کا کُرتا اُتار دیا، مولانا محمد احمد صاحب نے فرمایا کہ مجھے کرتا دوبارہ پہناؤ، کیونکہ تم نے سنت کے خلاف کُرتا اُتارا ہے، پہلے سیدھے ہاتھ میں پہناؤ پھر بائیں ہاتھ میں اور اگر اتارو تو پہلے بائیں ہاتھ سے پھر دائیں ہاتھ سے، یہ ہے عشقِ سنت۔ آہ! یہ کون سا عشق ہے کہ عربی لباس پہن کر اور گھوڑے پر بیٹھ کر تلوار لیے چلے آرہے ہیں۔ نعوذ باﷲ جنگ بدر والا نقشہ پیش کررہے ہیں، یہ عشقِ سنت ہے یا سنت کا مذاق اُڑانا ہے؟۔۔۔۔

 ساری سنتیں کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں، میں نے بھی ایک کتاب لکھی ہے ’’پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنتیں‘‘ تو دوستو! ان سنتوں کی کتابوں کو پڑھ کر سنت کے مطابق عمل کیجیے مثلاً بخاری شریف کی روایت ہے کہ جوتا پہننے کی سنت یہ ہے کہ جب جوتا پہنے تو دائیں پیر میں پہنے اور جب اُتارے تو بائیں پیر سے اُتارے۔

جو دن رات گانے سنتا ہے اور کہتا ہے کہ میں عاشقِ رسول ہوں اور ربیع الاوّل کے جلوس میں شریک ہوتا ہے جہاں زور و شور سے گانے بجتے ہیں وہ کس منہ سے عاشقِ رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟ اسی طرح آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تصویروں کو بھی منع فرمایا ہے کہ جہاں تصویر ہوگی وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آئیں گے، لیکن عشقِ رسول کا دعویٰ کرنے والوں کے گھروں کو دیکھو تو عورتوں کی تصویروں سے تمام گھر بھرے ہوئے ہیں۔۔

۔ دوستو! اصل ربیع الاوّل اس کا ہے جو رات دن ہر وقت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یاد رکھتا ہے، سال میں ایک مہینہ کے لیے نہیں، ایک دن کے لیے نہیں، بارہ ربیع الاوّل کے لیے نہیں، جس کی ہر سانس بارہ ربیع الاوّل ہے، جو اللہ کے نبی کی سنت پر زندہ رہتا ہے، ہر سانس میں سوچتاہے اور اہلِ علم سے پوچھتا ہے کہ یہ خوشی کیسے مناؤں، شادی کیسے ہو؟ غمی کیسے ہو؟ ساری سنتیںپوچھتاہے اور سنت پوچھ کر سنت کے مطابق خوشی اور غمی کی تقریبات کرتاہے تو جس کی ہر سانس سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت پر فد ا ہو، اس کی ہر سانس بارہ ربیع الاوّل ہے۔

اور بارہ ربیع الاوّل کو جلوس اور چراغاں کرنا اگر اچھی چیز ہوتی تو صحابہ ضرور کرتے کیونکہ وہ جان فدا کرنے والے تھے، پروانۂ شمعِ رسالت تھے، وہ اس پر ضرور عمل کرتے لیکن شریعت نے ان چیزوں کو منع کیا ہے کہ اسراف و فضول خرچی مت کرو، آگ جلانا اور جگہ جگہ چراغاں کرنا ہندؤں اور مجوسیوں کا طریقہ ہے۔۔۔۔

بہرحال میں اپنے دوستوں سے عرض کرتا ہوں کہ جس مسجد میں رات دن سنتوں پر عمل ہورہا ہے، پانچوں نمازوں میں مسجد میں داخل ہوتے وقت اور مسجد سے نکلتے وقت اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ کا وِرد ہورہا ہے تو الحمدﷲ ہمارا روزانہ بارہ ربیع الاوّل ہے کیونکہ اگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم دنیا میں تشریف نہ لاتے تو ہمیں مسجد میں داخل ہونے اور مسجد سے نکلنے کی سنتوں کا کیسے پتہ چلتا؟ تو جو شخص آپ کی سنت پر عمل کررہاہے اس کا روزانہ بارہ ربیع الاوّل ہے یا نہیں؟ کیونکہ آپ کے دنیا میں تشریف لانے کا مقصد یہی ہے کہ امت آپ کے نقشِ قدم کی اتباع کرے کیونکہ ؎

نقشِ قدم نبیصلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں جنت کے راستے

اﷲ جل جلالہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

اس لیے میں نے عرض کیا کہ ہماری مسجدیں صحابہ کے طریقے پر آباد ہیں۔ اگر سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے مسجد نبوی میں چراغاں نہیں کیا تو الحمدللہ! ہماری مسجدیں بھی صحابہ کرام کی یادگار ہیں۔ خدا کے ان عاشقوں کی نقل کرکے ہمیں کوئی حسرت نہیں، تم کچھ بھی کہتے رہو ہمیں اس پر کوئی ندامت نہیں ہے بلکہ ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گذار ہیں جس نے ہمیں ان کی اتباع کی توفیق دی اور ہم دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! ہماری زندگی صحابہ کی سنت کے مطابق ہوجائے جس کی ہم کوشش کررہے ہیں۔۔۔

ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم نے کامل اتباع کرلی لیکن ہم کم سے کم کچھ کوشش کرتے ہیں کہ ان کے طریقے پر ہمارا ربیع الاوّل گذرے جیسے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا ربیع الاوّل تھا، جیسے حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا ربیع الاوّل تھا، جیسے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کا ربیع الاوّل تھا، جیسے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ربیع الاوّل تھا۔ ہم ان صحابہ کے مطابق ربیع الاوّل گذارنا چاہتے ہیں۔ ہم ایک سانس بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بھولنا بے وفائی اور اپنے ایمان کا ضیاع اور تباہ کاری سمجھتے ہیں۔۔۔۔

  ہم پناہ چاہتے ہیں کہ ہمارا کوئی عمل حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق نہ ہو۔ ہم تو آنکھوں کو بھی آپ کی سنت کے مطابق استعمال کرنے کو ضروری سمجھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا اے علی خبردار! نامحرم عورتوں کو مت دیکھنا، نظر کی حفاظت کرو۔ پس کسی امرد یعنی بے ڈاڑھی مونچھ کے لڑکوں کو دیکھنا یا کسی کی ماں ، بہن ، بہو، بیٹی کو دیکھنا یا اخبارات میں فلم ایکٹرز کی تصویریں دیکھ دیکھ کر للچانا یہ ربیع الاول کا حق ادا ہو رہاہے؟۔۔۔

 آنکھوں کی سنت یہ ہے کہ جن چیزوں کو سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے منع فرمایا ان چیزوں سے ہم اپنی آنکھوں کو بچالیں جس نے یہ کرلیا نبی کی سنت اس نے ادا کردی، ربیع الاوّل کی حقیقت اس نے پالی، جس نے اپنے کان کو گانا سننے سے بچا لیا اس نے ربیع الاوّل کی حقیقت پالی، جس نے اپنی زبان کو گناہ سے بچایا، جس نے اپنی شرمگاہ کو گناہوں سے بچایا اور اپنی زندگی کو حرام کاریوں سے بچایا، اللہ کے غضب و قہر کے اعمال سے بچایا اس کو ہر وقت ربیع الاوّل کی حقیقت حاصل ہے۔ روزانہ درود شریف پڑھئے، ہر وقت دعاکے آگے پیچھے درود شریف پڑھیے۔ سبحان اللہ! کسی وقت بھی ہمارا ربیع الاوّل ہم سے الگ نہیں۔۔۔۔

آج کل کے لوگ تو سیّدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ پر بھی فتویٰ لگادیں کہ نعوذ باللہ وہ بھی اولیاء اﷲ کے قائل نہیں تھے اور یہاں یہ بات بتا دوں کہ ہم اولیاء اﷲ کے غلام ہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم اولیاء اﷲ کو نہیں مانتے وہ ہم پر بہتان باندھتے ہیں، قیامت کے دن ان کو جواب دینا پڑے گا۔ ہم تو اولیاء اﷲ کے غلام ہیں، ہمارے بزرگ چاروں سلسلوں میں بیعت کرتے ہیں ۔ ہم ہرگز ان لوگوں میں نہیں ہیں جو اولیاء اﷲ کو نہیں مانتے، ہم اولیاء اﷲ کو خدا نہیں سمجھتے بلکہ اﷲ تعالیٰ کا مقبول بندہ سمجھتے ہیں لیکن بات یہ ہے کہ چونکہ ہم خلافِ سنت باتوں کو منع کرتے ہیں تو جو لوگ خلافِ سنت کاموں میں مبتلا ہیں وہ ہمیں اپنے کباب میں ہڈی سمجھتے ہیں، انہوں نے اپنے حلوے مانڈے کے لیے ہمیں بدنام کیا ہے کہ ہم بزرگوں کو نہیں مانتے۔

علمِ غیب صرف اللہ کو ہے:  حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہا ر گم ہوگیا۔ سرور ِعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تلاش کرو۔ اس جگہ پانی نہیں تھا تو تیّمم کرکے نماز پڑھنے کی آیت نازل ہوئی۔  جب قافلہ تیّمم کرکے نماز پڑھ چکا اور آگے روانہ ہوا تو اونٹ اٹھا جس کے نیچے ہا ر چھپا ہوا تھا۔ اگر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو علمِ غیب ہوتا تو ہار کا بھی علم ہوتا اور آپ بتا دیتے کہ ہار اونٹ کے نیچے ہے۔ کیا نبی ایسا کر سکتا ہے کہ اس کو علم ہو کہ ہار اونٹ کے نیچے ہے اور صحابہ بے چین ہوں، پریشان ہوں اور وہ نہ بتائے؟

اَولیاء اللہ سے براہِ راست مانگنا شرک ہے:   لیکن افسوس ہے ان پر کہ جب تک ان کو شرک کی چٹنی نہ مل جائے اس وقت تک ان کو مزہ ہی نہیں آتا، لاکھ حدیثیں سنا دو مگر ان کو مزہ نہیں آئے گا لیکن اگر یہ سنا دیجئے کہ شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی گیارہویں شریف کی بریانی کی ایک ہڈی کوا لے گیا اور وہ اس کی گرفت سے چھوٹ کر قبرستان میں گرگئی تو گیارہویں شریف کی بریانی کی ہڈی کی برکت سے سب قبرستان والے بخش دیئے گئے۔ آہ! ایسی واہیات باتوں سے ان کو بڑا مزہ آتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی عظمت، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سنتوں کی عظمت کے بیان میں ان کو مزہ نہیں آتا، پیروں کو خدا سے بڑھاتے ہیں

اولیاء اللہ کا وسیلہ تو جائز ہے لیکن ان سے براہِ راست مانگنا شرک ہے، کسی قبر سے کہنا کہ ہمیں بچہ دے دو، ہماری روزی نہیں ہے ہمیں رزق دے دو، یہ بالکل کفر ہے، ایسا شخص کافر ہو کر جہنم میں جائے گا لیکن یہ کہنا کہ یا اللہ! اپنے مقبول بندوں کے صدقے میں ، اپنے اولیاء کے صدقے میں اور سب سے بڑھ کر ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے صدقہ میں ہماری دعاؤں کو قبول فرمالیجیے۔ بتا دیا کہ انبیاء اور اولیاء کا وسیلہ جائز ہے یعنی ان کے وسیلہ سے اﷲ تعالیٰ سے مانگنا جائز ہے براہِ راست انبیاء و اولیاء کی قبروں سے مانگنا شرک ہے۔

 خیر یہ چند باتیں کہہ دیں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ مسجد اشرف میں  چراغاں کیوں نہیں ہوا۔ شکر ادا کرو کہ صحابہ کے مطابق ہمارا ربیع الاول گذرا ہے۔ سیّد نا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے اگر مسجد نبوی میں چراغاں نہیں کیا تو آج الحمدللہ ہماری مسجد میں بھی چراغاں نہیں ہوا۔ الحمدللہ! یہاں سنت کا نور ہے، سنت کا چراغ دل میں جلائو، سنتوں پر عمل کرو۔ ایک سنت کا نور سورج چاند سے بڑھ کر ہے۔ جس نے سنت پر عمل کرکے سنت کا نور حاصل کرلیا اس کو ان چراغوں سے، ان بلبوں سے کیا نسبت؟ اس کے دل میں تو سورج اور چاند سے زیادہ نور آگیا کیونکہ سورج اور چاند مخلوق کا نور ہے، اتباعِ سنت سے خالق کا نور دل میں آتا ہے

تسخیر مہر و ماہ مبارک تمہیں مگر

دل میں اگر نہیں تو کہیں روشنی نہیں

میرا مقصد اس مضمون سے یہ تھا کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں  کہ ہماری اس مسجد میں چراغاں نہیں ہوا اورصحابہ کے طریقے کی اتباع کی اﷲ تعالیٰ نے توفیق دی۔ یہ ڈے منانا، موت و پیدائش کا دن منانا اسلام میں نہیں ہے، یہ یورپ سے آیا ہے، کافروں سے آیا ہے۔ آپ ہمیں ایک مثال بتادیں کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ڈے منایاہو یا بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ڈے منایا ہویا کسی صحابی نے حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ڈے منایا ہو، صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے کسی کا ڈے منایا ہو۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہیں منایا، صحابہ نے نہیں منایا تو ہم کیوں منائیں؟ اللہ تعالیٰ عقلِ سلیم عطا فرمائے۔ ایسے لوگوں کو ان کے مقتدا اور گمراہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ڈے مناؤ، خوشی مناؤ، حلوہ ضرور پکائو۔ کیا یہ خوشی کا طریقہ ہے؟ خوشی کا طریقہ گناہ چھوڑنا ہے، خوشی کا طریقہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اتباع کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ یہ ہے اصلی خوشی۔۔۔۔

بس دعا کیجئے! اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ہم سب کو سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر اور آپ کی ایک ایک سنت پر جان دینے کی توفیق عطا فرمائے اور سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت کو ہمارے سینوں میں بھر دے اور بلا استحقاق سرورِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت ہم سب کو خواب میں عطا کرے۔ ہم اس قابل نہیں ہیں، ہمیں اس کا استحقاق نہیں ہے لیکن آپ کریم ہیں، آپ بھی کریم ہیں اور آپ کا نبی بھی کریم ہے

اللہ تعالیٰ ہمیں سچی اتباعِ سنت اور صحیح اور حقیقی ربیع الاوّل نصیب فرمائے یعنی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی محبت اتباع والی نصیب فرمائے اور جذبۂ ایمان اور جذبۂ محبتِ رسول حضراتِ صحابہ والا اﷲ ہم سب کو نصیب فرمائے جو اﷲ کے یہاں مقبول ہے، جس سے خدا راضی ہے۔۔۔

الحمدللہ! ہماری یہ مساجد اور ہمارا یہ عمل ان کے طریقے پر ہے جن سے اللہ راضی ہوا ہے۔ صحابہ کے طریقے کے خلاف جو ہیں ان کے لیے رضا مندی کی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بدعات سے محفوظ فرمائے، آمین  ۔۔۔

 

Joomla! Debug Console

Session

Profile Information

Memory Usage

Database Queries