




حج و عمرہ کے متعلق خاص ہدایات ارشادات: شیخ العرب العجم مجددِ عصر عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ | ||
اہم نوٹ: حج و عمرہ کے احرام کی نیت کرنے کے بعد خوشبو کا استعمال ممنوع ہے۔ اس لیے ہوائی جہاز میں جو خوشبو دار ٹشو پیپر دیا جاتا ہے اس کو استعمال نہ کریں۔ (۱)…… نظر کی خاص حفاظت کریں یعنی نامحرم عورت یا لڑکی یا لڑکے کو نہ دیکھیں۔ حرمین شریفین میں ساری دنیا کے لوگ آتے ہیں اس لیے ہروقت اس کا خیال رکھیں کہ گوشۂ چشم سے بھی نفس بد نظری نہ کرنے پائے۔ گھر سے نکلتے وقت یہ ارادہ کرکے نکلیں کہ یہاں کسی کو نہیں دیکھنا ہے۔ دل میں بار بار اس ارادہ کی تجدید کرتے رہیں ورنہ نفس بد نظری کرادے گا۔ دونوں حرم بین الاقوامی جگہ ہے۔ یہاں دنیا بھر کی عورتیں آتی ہیں۔ اس لیے شیطان کہتا ہے کہ ذرا دیکھ لو کہ اُردن کی عورت کیسی ہے، مراکش کی کیسی ہے، الجزائر کی کیسی ہے۔ شیطان سے کہہ دو کہ تیری ایسی تیسی، ہرگز نہیں دیکھوں گا، مردود دور ہوجا اور اٰمَنْتُ بِاللّٰہ ِ وَ رُسُلِہٖ پڑھ لو، یہ گناہ کے وسوسوں کا علاج ہے۔ (۲)…… قلب کی حفاظت کریں یعنی دل میں گندے خیالات نہ پکائیں نہ کسی حسین کا تصور کرکے مزہ لیں نہ گذشتہ گناہوں کو یاد کرکے مزہ لیں، خیالات کا آنا برا نہیں لانا برا ہے، خیالا ت آجائیں تو ان میں مشغول ہوجانا برا ہے۔ (۳)……جسم کو بھی کسی غیر محرم عورت یا بے ریش لڑکے (یعنی جن کی ڈاڑھی مونچھ نہ آئی ہو یا جن میں کشش ہو) کے قریب نہ رکھیں۔ (۴)…… فضول گوئی نہ کریں یعنی زیادہ بات چیت سے پرہیز کریں، کام سے کام رکھیں۔ طواف و تلاوت درود شریف کے پڑھنے میں وقت گذاریں اور تھک جائیں یا کمزوری محسوس کریں تو کعبہ شریف کو دیکھتے رہیں۔ (۵)……کسی مسئلے میں کسی سے بحث و مباحثہ نہ کریں نہ کسی سے لڑائی جھگڑا کریں۔ اگر کسی سے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو معاف کردیں کہ اگر زائرین ہیں تو اﷲ کے مہمان ہیں اور مقامی ہیں تو درباری ہیں لہٰذا سرکار کے مہمانوں اور درباریوں دونوں کا ادب ضروری ہے اور دوکانوں پر دوکان داروں کا بھی احترام کرو کہ اﷲ کے پڑوسی ہیں اور مدینہ منورہ میں حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کے پڑوسی ہیں۔ (۶)…… طواف کے وقت کعبہ شریف کی طرف مت دیکھیں۔ بادشاہ جس وقت مخاطب ہوتا ہے تو ایسے وقت میں بادشاہ سے نظر ملانا خلافِ ادب ہے۔ (۷)…… اگر کوئی نامحرم عورت نظر آجائے اور دل اس کی طرف کھینچنے لگے تو فوراً نظر ہٹالو اور سمجھ لو کہ یہ اﷲ کی مہمان ہے اس لیے میری ماں سے زیادہ محترم ہے اور اگر مدینہ منورہ میں نظر پڑ جائے تو سوچو کہ یہ اﷲ کی بھی مہمان ہے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بھی مہمان ہے۔ اسی طرح کوئی لڑکا نظرآئے اور دل کھنچنے لگے تو سمجھو کہ یہ میرے باپ سے زیادہ محترم ہے کیونکہ مکہ مکرمہ میں اﷲ تعالیٰ کا مہمان ہے اور مدینہ منورہ میں اﷲ تعالیٰ کا بھی مہمان ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا بھی مہمان ہے۔ غرض لڑکی یا لڑکے پر نظر پڑتے ہی فوراً ہٹا لیں، ایک لمحے کو بھی پڑی نہ رہنے دیں۔ (۸)…… حرمین شریفین کے لوگوں سے کوئی تکلیف پہنچے تو کوئی شکایت نہ کرو، یہ سوچو کہ یہ شہزادے ہیں، ایک طواف کریں گے اور اﷲ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں گے، ہم ان کے پیروں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ (۹)……کھانے میں کوئی چیز پسند نہ آئے تو شکایت نہ کرو، ایک صاحب نے شکایت کی کہ مدینہ منورہ کا دہی کھٹا ہے، ہمارے ہندوستان میں دہی میٹھا ہوتا ہے تو خواب میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ مدینہ سے نکل جائو۔ وہاں کی ہر چیز کو محبت ، عزت اور عظمت کی نظر سے دیکھو، کسی چیز میں عیب نہ نکالو۔ ایک صاحب مدینہ منورہ کی برقع پوش کالی عورتوں سے روزانہ انڈے خریدتے تھے۔ ایک دن کچھ انڈے گندے نکل آئے تو انہوں نے انڈے خریدنا بند کردئیے۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت نصیب ہوئی۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ برقع میں جو کالی عورتیں آتی ہیں بہت دور سے آتی ہیں، غریب ہیں، ان سے انڈے خرید لیا کرو، ان کو مایوس نہ کرو۔ یہ خواب دیکھ کر وہ بہت روئے اور پھر روزانہ بے ضرورت ان عورتوں سے انڈے خرید کر تقسیم کردیتے تھے۔ (۱۰)…… اپنے آپ کو خادم سمجھیں مخدوم نہ سمجھیں۔ اپنی ذات کو لوگوں کے لیے راحت کا باعث بنائیں اور ان کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھیں۔ (۱۱)…… کعبۃ اﷲ پر پہلی نظر پڑے تو اﷲ سے اﷲ کو مانگ لو اور کہو کہ اﷲ منہ تو اس قابل نہیں ہے لیکن آپ کریم ہیں نالائقوں پر بھی مہربانی کرتے ہیں ؎ کوئی تجھ سے کچھ کوئی کچھ مانگتا ہے (۱۲)……اگر کوئی خواب دیکھیں تو اس کا تذکرہ صرف اپنے شیخ سے کریں۔ اگر شیخ نہ ہو تو اپنے ہمدرد اور دین کی سمجھ رکھنے والے سے کریں۔ ہر ایک سے نہ کہتے پھریں۔ (۱۳)…… حج اور عمرہ کرنے والے اس بات کی کوشش کریں کہ ان کی ایک سانس بھی اﷲ رب العزت کی نافرمانی میں نہ گذرے۔ (۱۴)…… کنکریاں مارنے کی نصیحت یہ ہے کہ جب مجمع کم ہوجائے ۲۰، ۲۵، ۵۰،۶۰ آدمی رہ جائیں تب جاؤ۔ چاہے ۱۲؍ بجے رات میں جانا پڑے، کتابوں میں جو لکھا رہتا ہے کہ مغرب بعد مکروہ ہے اب یہ اس زمانہ میں مکروہ نہیں رہا بلکہ اب مکروہ وقت میں زیادہ ثواب ملے گا کیونکہ جان بچانا فرض ہے، اس لیے مغرب بعد یا عشاء بعد یا ۱۲؍ بجے رات کو جاؤ۔ جب تک صبح صادق نہ ہو اس کا وقت بلا کراہت جائز ہے۔ (۱۵)…… گرمیوں میں پانی کا انتظام اپنے ساتھ رکھو مثلاً تھرماس میں ٹھنڈا پانی ساتھ رکھو کہ دھوپ کی شعاعوں سے اچانک پیاس لگ جاتی ہے اور پانی نہ ملنے سے لو لگ جاتی ہے، کوئی اور بیماری آسکتی ہے لہٰذا ان چیزوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ (۱۶)…… خواتین کے لیے بہتریہی ہے کہ حرمین شریفین میں وہ نماز اپنے گھروں میں پڑھیں، حرم میں صرف طواف کے لیے جائیں، عورتوں کے لیے گھروں میں نماز پڑھنے کی زیادہ فضیلت ہے یعنی ایک لاکھ کا ثواب ان کو گھر پر ہی مل جائے گا۔ (۱۷)…… اﷲ تعالیٰ سے خوب دعا مانگو، عرفات کے میدان میں دعا بہت قبول ہوتی ہے۔ اسی طرح روضۂ مبارک پر دعا قبول ہوتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ سے اپنے لیے، اپنے ماں باپ، اپنے خاندان کے لیے، میرے لیے دعا مانگئے۔ میں بھی دعا کے لیے گذارش کرتا ہوں اور صلوٰۃ وسلام کا وکیل بناتا ہوں۔ (۱۸)…… بس چند نصیحتیں کردیں۔ باقی حج وعمرہ کے متعلق مستند عالم کی کتاب پڑھتے رہو جیسے حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اﷲ علیہ کی’’ احکامِ حج وعمرہ‘‘ کو بار بار پڑھو۔ (ماخوذ از : ’’ خزائن شریعت و طریقت‘‘) |